Fawad Chaudhry's Statement For PUBG

فواد چودہری کا پب جی گیم کے حق میں بیان

Fawad Chaudhry’s Statement For PUBG

اس طرح کا رویہ ٹیکنالوجی کی انڈسٹری کو ختم کررہا ہےہم
اس طرح کی پابندی کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔چوہدری فواد
حسین وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے ‘پب جی گیم پر پابندی عائد
کرنے کی مخالفت کر دی۔وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے ‘پب
جی گیم پر پابندی عائد کرنے کی مخالفت کردی،

وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین پب جی گیم پر
پابندی کی مخلافت کردی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام
میں کہا ہے کہ میں ہرطرح کی عام پابندیوں کے خلاف ہوں
، اس طرح کا رویہ ٹیکنالوجی کی انڈسٹری کو ختم کررہا ہے ہم
اس طرح کی پابندی کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں،

مجھے امید ہے کہ متعلقہ وزیر سید امین الحق اس پابندی کا
نوٹس لیں گے اور پی ٹی اے کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ
اس طرح کی پابندی کی حوصلہ افزائی نہ کریں کیونکہ اس طتح
کا رویہ طویل مدت سے ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ
ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بچوں کی
ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات سامنے آنے پر ‘پب
جی گیم پر پابندی عائد کردی تھی۔پی ٹی اے کی جانب سے
نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا ہے کہ پب جی گیم
پر ملک میں پابندی عائد کردی گئی ہے۔

عیدالاضحیٰ پر اس مرتبہ کھالیں کون جمع کرے گا ؟ حکومت نے اعلان کردیا

Fawad Chaudhry’s Statement For PUBG

پریس رلیز میں بتایا گیا تھا اس گیم کی وجہ سے بچوں کی
ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گیم کی وجہ سے کئی
نوجون خودکشی بھی کر رہے جبکہ اس کی وجہ سے نوجوانوں کے
وقت اور صحت کا ضیاع ہورہا ہے۔

پی ٹی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اب اس حوالے
سے والدین اور لوگوں کے تاثرات لیے جائیں گے کہ انکا
اس حوالے سے کیا کہنا ہے۔ دوسری جانب پب جی شائقین
نے گیم کی پابندی کے خلاف دھرنا دینے کی منصوبہ بندی شروع
کر دی ہے۔

معروف گیم ‘پب جی پر پابندی کے خلاف سوشل میڈی صارفین
کی جانب سے ردعمل کا اظہار تو کیا جا رہا تھا لیکن اب شائقین نے
اس پابندی کے خلاف دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے
سے شائقین نے ٹویٹر کا سہارا لیتے ہوئے اپنی دھمکیاں سامنے رکھی
ہیں۔ ایک صارف نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پیر تک
ٹویٹر پر ٹریند بنائیں گے، اگر گیم سے پابندی نہ ہٹائی گئی تو ہم اسلام آباد
ڈی چوک میں دھرنا دیں گے۔

اس حوالے سے مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں