پہلی مرتبہ دو سعودی یونیورسٹیاں دُنیا کی 200 بہترین یونیورسٹیز میں شامل ہو گئیں

سعودی عرب آج سے کچھ دہائیوں پہلے ایک پسماندہ ملک تھا، تاہم سعودی حکمرانوں کی بصیرت نے اس مُلک میں تعلیم کی ضرورت و اہمیت کو محسوس کیا جس کے بعد یہاں بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹیز اور کالجز کا جال بچھایا گیا ہے۔

جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آج سعودی نوجوان مرد و خواتین بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جانے والی ڈگریوں کے حامل ہو چکے ہیں اور سعودی مملکت کے علاوہ امریکا اور یورپ میں بھی اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔


سعودی تعلیم کے بلند معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلی بار دو سعودی یونیورسٹیاں دُنیا کی 200 بہترین یونیورسٹیز میں شامل ہو چکی ہیں۔

سعودی اخبار عکاظ نے ایک انٹرنیشنل ویب سائٹ کے حوالے بتایا ہے کہ 2020ء کے لیے دُنیا کی 200 بہترین یونیورسٹیوں کی جو فہرست تیار کی گئی ہے اس میں جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی اور دمام کی کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

انٹرنیشنل ویب سائٹ کیو ایس (QS) کی اس فہرست میں جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کو اس کے بلند معیار کی وجہ سے 186ویں درجے پر رکھا گیا ہے،

جو کہ اس کی تاریخ میں اب تک کی بلند ترین رینکنگ ہے۔ یہی نہیں، اس فہرست میں اس ممتاز یونیورسٹی کو عرب دُنیا کی سب سے بہترین یونیورسٹی بھی قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ کنگ فہد پٹرولیم اینڈ منرلز یونیورسٹی کو اس فہرست میں 200واں درجہ دِیا گیا ہے۔


عرب دُنیا کی یونیورسٹیز میں کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی تیسرے نمبر پر براجمان ہے۔ جبکہ دُنیا کی ایک ہزار بہترین یونیورسٹیز میں کنگ سعود یونیورسٹی بھی شامل ہے،

اس کا نمبر 281 ہے۔ عرب دُنیا میں اس کا نمبر چھٹا ہے۔ جبکہ اُم القریٰ یونیورسٹی اور کنگ خالد یونیورسٹی بھی دُنیا کی ایک ہزار بہترین یونیورسٹیز میں شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں