چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت سے ایک قانون پاس نہیں ہوا

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت سے ایک قانون پاس نہیں ہوا، آرمی چیف کی متفقہ توسیع کیسے کرائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ پارلیمان میں آئیگا، دیکھنا یہ ہے کہ جن سے ایک نوٹی فکیشن نہیں بن سکا اور ایک سال میں ایک قانون پاس نہیں کرسکے،

وہ 6 ماہ کے اندر اتنی اہم قانون سازی میں کیسے پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کریں گے اورآئین میں ترمیم کریں گے۔

اداروں کا کام کاروبار کرنا نہیں ہے، کب تک بڑے اداروں کو ٹیکس نیٹ سے باہر رکھا جائے گا، سب کو مل کر ترقی میں حصہ ڈالنا ہوگا اور کوئی مقدس گائے نہیں ہوسکتا، یہ حکومت امیروں کو ریلیف اور عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے،

یہ کیسا نیا پاکستان ہے جس میں کسانوں سے سبسڈی چھینی جارہی ہے اور اربوں پتی لوگوں کے لئے ایمنسٹی سکیم آتی ہے۔ جب سے حکومت آئی ہے کوئی ایسا ادارہ نہیں جو زوال پذیر نہ ہو، اس حکومت سے جان چھڑانی ہوگی، سلیکٹرز کو سوچنا ہوگا کہ ملک مزید تجربوں کا متحمل نہیں ہوسکتا،

سلیکٹڈ کو گھر بھیجنا پڑے گا۔ سلیکٹرزکوبھی یہ سوچنا ہوگا ان کا یہ تجربہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے، سلیکٹڈ کو گھر اور عوامی راج قائم کرنا ہوگا۔ حکومت پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ ہرشعبہ زوال پذیر ہے، محنت کش،کسان بدحال ہے۔ جس میں خلق خدا کی مرضی شامل نہ ہوایسا نظام قبول نہیں۔ ہم کسی صورت پاک چین اقتصادی راہداری کومتنازعہ نہیں بننے دیں گے،

عمران سن لیں چین کے ساتھ سی پیک پریوٹرن نہیں لینے دیں گے۔ آج سیاست کا محورنظریات نہیں مخالفین پر کیچڑ اچھالنا ہے، بغیرکسی جامع پالیسی کے عوام کو سبزباغ دکھائے جاتے ہیں۔ حکومت حاصل کرنے کے لیے عوام کے بجائے امپائر کو اہمیت دی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا کشمیر سے رشتہ پہلے دن سے ہے، بھٹوشہید نے کشمیر پر سودا قبول نہیں کیا،

ہماری پارٹی نے مسئلہ کشمیر پر اہم کردار ادا کیا، مسئلہ پر پیپلز پارٹی نے صف اول کا کردار ادا کیا، پہلی بار کشمیر کا سپیشل سٹیٹس ختم کر دیا گیا،

ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں نریندرمودی کو پہچانو، بھارتی وزیراعظم انتہاپسند سوچ رکھتا ہے، کوئی کشمیر کا سفیر رہا ہے تو وہ شہید بھٹو ہے، مودی پورے خطے کیامن کیلئے خطرہ ہے۔ ہمارا سلیکٹڈ مودی کے جیتنے کی دعائیں مانگتا تھا، سلیکٹڈ کہتا تھا مودی جیتے گا تو مسئلہ کشمیر حل ہو گا، آج کہتا ہے مودی ہٹلر، آر ایس ایس کا کارندہ ہیں،

کیا مودی پہلے آر ایس ایس کا کارندہ نہیں تھا۔ جب اس کومس کال کرتے تھے اس وقت مودی کیا ہٹلرکا پیروکارنہیں تھا۔مودی پاکستان اور بھارت کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ ہمارا سلیکٹڈ کہتا ہے کشمیرکا سفیرہوں۔ کشمیر بحران کے دوران ایسا سفیرہے جس نے کسی بیرون ملک کا دورہ نہیں کیا۔ وادی کے حالات پر پیپلز پارٹی خاموش نہیں رہ سکتی، 117

دن سے کرفیو نافذ ہے۔ کیسی جمہوریت ہے جس میں سیاست بھی آزاد نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی کشمیر کا نہ سودا کیا ہے نہ کسی کو کشمیر کا سودا کرنے دیں گے،

کشمیر ہمارے دل میں دھڑکتا ہے۔ کشمیر کا مقدمہ دنیا کے ہر فورم پر لڑیں گے۔ غریب کیلئے کوئی سہولت نہیں ہے جہاں ہیلی کاپٹر کا کرایہ پچاس روپے ،ٹماٹر 17 روپے، مٹر 5 روپے بتائے جائیں لوگ سلائی مشین سے ارب پتی بن جائیں ،حقیقت کے منافی اقدامات قبول نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں