عمران خان نے سوا سال میں جس طرح مافیا کو مضبوط کیا ہے ایسا تو 72 سال میں بھی نہیں ہوا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نے کہا ہے کہ عمران خان نے سوا سال میں جس طرح مافیا کو مضبوط کیا ہے ایسا تو 72 سال میں بھی نہیں ہوا۔

ہم نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا کہ یہ ملک جس طرح تباہی کی طرف جا رہا ہے مجھے تبدیلی اور تباہی میں زیادہ فرق نظر نہیں آ رہا۔ عمران خان نے قوم کو کتنا بے وقوف سمجھا ہوا ہے ؟ وہ کھیل کے میدان سے باہر نکل آئیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پنجاب میں سوا سال میں جس طرح مافیا کو مضبوط کیا ہے ایسا تو 72 سال میں بھی نہیں ہوا۔ وہ بتائیں دو بی ایم ڈبلیو گاڑیاں کس کے گھر میں کھڑی ہیں ؟ عمران خان صرف تبادلے کرنے میں ہی مصروف ہیں اور وہ بھی کسی طرح سے درست نہیں ہیں۔

سینئر صحافی نے کہا کہ آج کل ٹی وی پر سچ بولنا منع ہے اور سخت پابندی عائد ہے۔ وزیر اعظم کبھی انتخابات سے نہیں بنا اور یہی ایک حقیقت ہے۔ پنجاب میں چھ ماہ بعد اس سے زیادہ تباہی اور کرپشن ہو گی۔

تجزیہ کار سعید قاضی نے کہا کہ عمران خان جزوی طور پر سچ بول رہے ہیں۔ تبدیلی صرف کیلنڈر میں ہی 70 سال سے ہو رہی ہے۔ نظام صرف ایک فیصد کے لیے بنایا گیا ہے جو فراڈیے شروع سے بیٹھے ہوئے تھے وہی آج بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ بیوروکریسی تبدیل کرنا دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت عمران خان کے ہاتھ میں نہیں ہے اور نظام مکمل طور پر فیل ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا عہدہ کوئی تربیتی عہدہ نہیں ہے جہاں آپ لوگوں کو بٹھا کر سکھا رہے ہیں۔ پنجاب کی بیورو کریسی کو سب جانتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں جبکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جن بیوروکریٹس کے نام آئے تھے وہ بھی آج انتہائی اہم اہم جگہ پر لگے ہوئے ہیں۔

سعید قاضی نے کہا کہ حکومت اسپتالوں میں غریبوں جو علاج ملتا تھا وہ بھی چھین رہی ہے۔ اس ملک کی عوام پہلے بھی لٹ رہی تھی اور اب بھی لٹ رہی ہے۔ صرف چہرے ہی بدلے ہیں نظام ویسے ہی چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جو کہانیاں سنائی جاتی ہیں وہ شاید حقیقت سے قریب نہیں اور وزیر اعظم کو چاہیے کہ اپنے ارد گرد کے لوگوں پر اعتماد کرنا کم کر دیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار ارشد شریف نے کہا کہ حکومت نے ایک سال میں ہی 5 آئی جیز بدل دیے۔ عثمان بزدار تو اتنا خفیہ کام کر رہے ہیں کہ انہیں خود بھی پتا نہیں چلتا تاہم انہیں وزیر اعظم کا مکمل طور پر تعاون حاصل ہے۔ ملک میں پلان صرف شیخ چلی کے منصوبوں پر ہی چل رہا ہے۔

ہم نیوز لاہور کے بیورو چیف شیراز حسنات نے کہا کہ پنجاب میں کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ شاید وہ پاکپتن کی طرف سے کی جا رہی ہیں۔ موجودہ آئی جی بھی سابقہ آئی جی پنجاب کی طرح انتہائی سخت ہیں اور میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتے اس لیے شاید وہ بھی حکومت کے ساتھ نہ چل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں بہت زیادہ گروہ بندیاں چل رہیں ہیں اور کئی لوگ وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے خواہش مند ہیں۔ صوبے میں کئی مسائل پر عثمان بزدار اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ سے مشاورت کرتے ہیں اس لیے کئی فیصلوں میں پرویز الہیٰ کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔

شیراز حسنات نے کہا کہ تبادلوں کے باوجود اب بھی کئی بیوروکریٹس ایسے ہیں جو اپنے عہدوں پر رہنے کے اہل نہیں ہیں۔

میزبان محمد مالک نے کہا کہ وزیر اعظم کی مرضی ہے وہ جسے رکھیں اور جسے فارغ کر دیں۔ جو اطلاعات پنجاب سے آ رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ لیکن کیا سیاسی لیڈر شپ اور سیاسی رہنمائی کے بغیر انتطامی نظام چل سکتا ہے ؟ جمہوریت میں ایسا بالکل نہیں ہو سکتا جہاں فیصلے عوام کے لیے کرنے ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں