سینئر تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ رقم کرگیا ہے

سینئر تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ رقم کرگیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کوئی آرمی چیف 6 ماہ کیلئے ہوگا،

جبکہ ہمیشہ 3 سال کیلئے تعینات کی جاتا ہے، انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ رقم کرگیا ہے،

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کوئی آرمی چیف 6 ماہ کیلئے ہوگا،جبکہ ہمیشہ 3 سال کیلئے تعینات کی جاتا ہے۔


عارف حمید بھٹی نے کہا کہ عدالت نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے،

میں نہیں سمجھتا کہ حکومت 3 یا 6 ماہ میں قانون سازی کرسکے گی۔ کیونکہ پوری اپوزیشن ایک صفحے پر ہے کہ تین مہینے میں الیکشن کروائے جائیں۔

اپوزیشن جو یہ الزام لگاتی ہے یہ اسمبلی جعل سازی سے آئی ہے ہم اس اسمبلی کو ہی نہیں مانتے، عمران خان کی حکومت کے دوران کسی بھی جماعت کی اچھی ہم آہنگی نہیں رہی۔

ماضی کا ایک حوالہ دیتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان کو منانے کیلئے ان کو سامنے کسی اور کورکھنا پڑا جبکہ پیچھے لمبی تفصیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج اہم حساس ادارہ ہے جس پر اس طرح بحث نہیں ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ان نالائقوں کی وجہ سے ادارے پر بات کی جارہی ہے۔

جیسے شٹل کاک جیسا لفظ اس شخص کیلئے جو ہمارے محافظ ہیں۔عدالت نے حکومت پر چھ ماہ کی پابندی لگا کرمشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے،قانون سازی کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔


واضح رہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا اور چھ ماہ کی مشروط توسیع دے دی۔ سپریم کورٹ نے آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق مشروط منظوری بھی دی اور فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل کو چار نکات پر مشتمل بیان بھی عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ سمری سے عدالت کا ذکر ختم کیا جائے، سمری میں مدت ملازمت کا تعین ختم کیا جائے، تنخواہ اور مراعات کے حوالے سے تصحیح کی جائے اور پارلیمنٹ سے قانون سازی کی یقین دہانی کروائی جائے۔

جس کے بعد اٹارنی جنرل کی جانب سے سمری پیش کی گئی جس کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں