فروغ نسیم کل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وکیل کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوں گے۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔


وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران فروغ نسیم کے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فروغ نسیم کل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وکیل کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوں گے۔

شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے فروغ نسیم کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے،انہوں نے کہاکہ کابینہ کے کسی رکن نے فروغ نسیم پر تنقید نہیں کی۔

شیخ رشید کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم کل اٹارنی جنرل کے ہمراہ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے اورعدالت کی معاونت کریں گے۔

وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد شفقت محمود اور شہزاد اکبرکے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے وزیر قانون کے استعفیٰ کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ فروغ نسیم کی ایم کیو ایم کے اتحادی وزیر ہونے کی حیثیت سے ان کی بہت خدمات ہیں لیکن انہوں نے وہ خدمات پس پشت ڈال کر عمران خان کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے۔ وہ اٹارنی جنرل کے ساتھ مل کر آرمی چیف کا کیس لڑیں گے۔

وزیر اعظم کی وزیر قانون پر برہمی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں فروغ نسیم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا، یہ سراسر غلط ہے کہ ان کے ساتھ کوئی تو تکار ہوئی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ وہ شیخ رشید کی باتوں کی تائید کرتے ہیں ۔ ساری کابینہ فروغ نسیم کی قابلیت اور محنت کو سراہتی ہے، کابینہ میں کوئی اختلافی بات نہیں ہوئی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبرنے کہاکہ فروغ نسیم نے استعفیٰ اس لیے دیا کہ وہ بطور وزیر کیس نہیں لڑ سکتے تھے،کیس مکمل ہونے کے بعد وزیراعظم کی منظوری سے دوبارہ کابینہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے جو 19 اگست 2019 کو جاری کیا گیا تھا اور اس کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کو 3 سال کی توسیع دی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں